29 نومبر 2020 - 17:10
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ اکیسویں قسط

اس رپورٹ کے مطابق یہودی کمیونٹی کے اندر کے بعض نامی گرامی افراد نے اس کیمپین پر شدید تنقید کی، اس کو اسلام فوبیا کا شاخسانہ قرار دیا، جن مین کئی فیصلہ ساز یا قانون ساز اور اخبارنویس بھی شامل تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی" (2)

دوسرا مرحلہ:
یہودی فیصلہ سازوں کی ہمدردیاں!
اس رپورٹ کے مطابق یہودی کمیونٹی کے اندر کے بعض نامی گرامی افراد نے اس کیمپین پر شدید تنقید کی، اس کو اسلام فوبیا کا شاخسانہ قرار دیا، جن مین کئی فیصلہ ساز یا قانون ساز اور اخبارنویس بھی شامل تھے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اسلام فوبیا سے سب سے بڑا فائدہ یہودی اٹھاتے ہیں اور مغربیوں کو اسلام سے خوفزدہ کرنے میں سب سے بڑا کردار بھی یہودیوں کا ہے لیکن جہاں وہ شام میں لڑنے والے وہابی تکفیریوں کا علاج معالجہ کرکے اور ان کی فوجی اور مالی مدد کرکے وہابیت کو یہودیت کا تسلسل ثابت کررہے ہیں وہاں انگریزی شیعوں کے لئے مسجد و امامبارگاہ بنوانے میں کردار ادا کرکے جتا رہے ہیں کہ "شیعوں کے درمیان بھی ہمارے سپاہی کافی سارے ہیں چنانچہ یہودی مفکرین اور اہلکاروں کی مدد ایک باقاعدہ سمجھوتے ہی کا ثمر ہوسکتا ہے، اور اگر اس کو ایسے ہی سطحی لیا جائے تو، ہماری سادگی ہوگی، اور اگر سوچ لیں کہ یہودی پیشگی منصوبے کے بغیر کوئی فیصلہ کرتے اور موقف اپناتے تو بڑی طاقتوں کے پورے نظامات پر مسلط نہ ہوسکتے.
یروشلم پوسٹ مزید لکھتا ہے: برطانوی پارلیمان کے ایک سیاسی مشیر جے اسٹول (Jay Stoll) نے 2015 میں "گولڈنگرینٹوگیدر @GG_Together" کے عنوان سے ہی کیمپین چلایا تھا لیکن ان کا مقصد اس یہودی علاقے میں نیونازیوں کی بڑھتی موجودگی کا مقابلہ کرنا تھا.
جے اسٹول کا کہنا تھا: "میں نے دو سال قبل ایک کمیپین کا آغاز کیا تا کہ برطانیہ کے گنجان یہودی آبادی میں نیونازیوں کی موجودگی اور مظاہرے پر اعتراض کرسکوں؛ لیکن بہت ہی باعث ناامیدی ہے کہ وہی نعرہ آج ایک مسجد کے منصوبے کے مقابلے میں سنائی دے رہا ہے؛ یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ یہ نیا کیمپین اسی کیمپین کی ترجمانی کررہا ہے جس کا آغاز میں نے کیا تھا".
یہودی جریدے "جیوش کرانیکل" (Jewish Chronicle) کے سیاسی ایڈیٹر مارکوس ڈیش (Marcus Dysch) نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر لکھا: "مشکل ہے کہ اس کیمپین کو ناقابل معافی اور شورمچاتی اسلام فوبیا کے سوا کچھ اور سمجھا جاسکے. یہ برطانوی یہودیوں کے لئے شرمناک ہے".
لندن کے ایک اور یہودی باشندے سٹیو ویلر (Steve Weller) نے کہا: "یہ بہت تکلیف دہ اور نفرت اور اسلام فوبیا شکایت کرنے والوں کے لئے. آپ اندازہ لگائیں کہ اگر اس عمارت کے موجودہ کردار کو پلٹا دیا جائے، تو لوگ کیا کہیں گے.
یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ اسی اثناء میں جواب دینے والوں میں سے 150 [یہودی] افراد نے اس عمارت کی مسجد میں تبدیلی کے منصوبے کی تحریری حمایت کی ہے. بہت سے لوگ اس عمارت کے بیرونی منظر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس عمارت کو ایک نیک کام کے لئے استعمال کیا جائے گا!!!
اسی رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2017 میں متعلقہ اسلامی مرکز [شیرازی فرقے کے ہیڈکوارٹر] کے نمائندوں نے کہا تھا کہ یہ اںہیں امید ہے کہ اس علاقے میں دوسرے عقائد کے پیروکاروں کے ساتھ تعاون کریں گے.

تیسرا مرحلہ:
یہودیوں کو یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں
نیز مغربی لندن کے یہودی کنیسے کی نائب سربراہ اور یہودی نمائندہ بورڈ کی سربراہ میری ایلیزے وان در زیل (Marie van der Zyl) نے 19 اکتوبر 2017 کو باضابطہ بیان جاری کرکے اعلان کیا: "ہمارا ادارہ اسلامی انلائٹنگ سینٹر کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مجھے بہت بہت خوشی، ڈھارس اور امید ملی جب میں نے سنا کہ یہ مرکز پابندی کے ساتھ یہودیت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور ہر قسم کی انتہاپسندی کا مقابلہ کرے گا"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲